Posts Tagged 'Allah'

دعاکی طاقت

اپنے تمام تر فخر کے باوجود انسان یہ تسلیم کرتا ہے کہ وہ کمزور ہے۔ ناراضگی، غصے اور گہرے غم کے عالم میں انسان اس طاقت کی طرف لوٹ جانا چاہتا ہے جو اسکی تمام فریادیں سنتی ہے۔ اسلام میں اس طاقت کا نام خدا یعنی اللہ ہے۔ اس کی مثال یہ ہے کہ اگر ایک آدمی ڈوب رہا ہے اور موت کے بہت قریب ہے یا اسکا کوئی بہت قریبی موت کے منہ میں ہے تو اپنی تمام تر عقل اور دولت کے باوجود وہ یہ محسوس کرے گا کہ وہ کتنا بے بس ہے۔

اسلام میں روزانہ پانچ بار ہم عبادت کرتے ہیں جسکو ” صلاۃ” کہتے ہیں۔ نماز ادا کرنا اور اللہ سے کچھ مانگنا ”دعا” کہلاتا ہے۔ تاہم بڑی قوتوں سے مانگنے سے جتنے بھی طریقے ہیں ان میں ہر کوئی ضرورت کے وقت مانگتا ہے۔

اسلام کے مطابق اللہ ہم سے کبھی بھی تھکاوٹ کا اظہار نہیں کرتا چاہے جب بھی مدد مانگی جائے۔ انسان تاہم مختلف ہیں، اگر ہمارا کوئی دوست ہے تو اگر ہم اس سے لگاتار مدد مانگیں تو وہ تنگ آجاتا ہے۔ اللہ کے ساتھ معاملہ مختلف ہے جتنا بھی مانگیں اتنا عطا ہوگا۔ دعا ایک عبادت ہے.دعا ایک ایسا عمل ہے جو انسان کو احساس دلاتا ہے کہ وہ کمزور ہے لیکن اسکا خالق ہر چیز پر قادر ہے۔ جب بھی ہم اسکی طرف جاتے ہیں ہمیں یہ احساس ہوتا ہے کہ وہ طاقتور ہے۔

جیسا کہ قرآن میں لکھا ہے :” تمھارا رب کہتا ہے: تم مجھے پکارو؛ میں جواب دوں گا)دعا( ” سورۃ ۴۰، آیات نمبر ۶۰

کوئی بھی خالق کی طرف لوٹ کر اپنی زبان میں مانگ سکتا ہے۔ تاہم اسلام میں راہنمائی موجود ہے۔

دعا مانگنے کا صحیح طریقہ :

اسلام ہمیں دعا مانگنے کا صحیح طریقہ بتاتا ہے کہ اپنے ہاتھ اٹھائیں اور

اپنے رب کی تعریف بیان کریں اور عربی میں موجود اسکے ناموں سے پکاریں جیسے کہ ” یارحمان

) رحم کرنے والے (یا رزاق )دینے والا( اسکے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیئے دعا کریں اور سلامتی کی دعا کریں، محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلمپانچ دفعہ دعا مانگنے کے لیئے وہ طریقہ سب سے اچھا ہے جو خود حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنایا، لیکن دعا ہر زبان میں مانگی جاسکتی ہے حتیٰ کہ کچھ غلط نہ مانگا جائے۔ اور دعا کے اختتام میں بھی درودواسلام پڑھیں دعا مانگنے کا بہترین طریقہ :کچھ ایسے حالات اور اوقات ہیں جن میں دعا زیادہ قبول ہوتی ہے۔ جن میں شامل ہیں رات کا تیسرا حصہ ، جس میں پرہیزگار مسلمان جاگتے ہیں اور دعا مانگتے ہیں سفر کے دوران مانگی گئی دعاجب کسی پر ظلم کیا گیا ہو، مظلوم کی دعا بہت جلد قبول ہوتی ہے اسی دعا کی وجہ سے کچھ ظالم اور جابر حکمرانوں کا خاتمہ ہوا ہے۔ جب کوئی بیمار ہو یا آپ کسی بیمار کی عیادت کے لیئے جائیںجب کوئی وضو کر کے ہٹے )دعا اور نماز کے لیئے ضروری چیز (اذان کے درمیان ) نماز کے لیئے بلاوہ (یا اقامے کے درمیان سجدے کی حالت میںاور وہ دعا جو گروہ کی شکل میں مانگی جائے۔ جیسے کہ امام کے پیچھے نماز کے بعد اسکا اثر اکیلے مانگی گئی دعا سے زیادہ ہوتا ہے۔  میری دعا کیوں قبول نہیں ہوتی ؟دعا قبول نہیں ہوگی اگر اس آدمی کے کپڑے، کھانا یا کمائی پاک نہیں جیسا کہ اس کے پاک ہونے کا حکم ہے۔ اگر کوئی منشیات فروش ہے تو اسکی دعا قبول نہیں ہوگی کیونکہ یہ اسلام کے خلاف ہے۔ اللہ ہم سب کا خالق و مالک ہے۔ وہ ہمارا مالک اور ہم اسکے غلام ہیں۔ وہ ہمارا غلام نہیں ہے اور نہ ہی ہمارا حکم ماننے کا غلام ہے۔ دعا مشین میں سکہ ڈال کر کولڈ ڈرنک حاصل کرنا نہیں ہے۔ یہ طریقہ اس دنیا کے خالق کی شان میں گستاخی ہے۔ دعا کے لیئے صبر اور وقت درکار ہوتا ہے جیسا کہ ایک پودے کے اگنے کے لیئے درکار ہوتا ہے۔ پودے کو پھل دینے میں وقت لگتا ہے اسلیئے صحیح وقت کا انتظار کریں۔ اگر ایک شخص بے صبرا ہورہا ہے اور آخر میں کہتا ہے اللہ میری تو سنتا نہیں ہے تو اسکی دعا اللہ کی طرف سے رد کردی جائے گی۔ اگر ہم صبر کرتے ہیں روزانہ دعا مانگتے ہیں اور اللہ کی رضا میں راضی رہتے ہیں تو جلد ہی ہمیں صبر کا پھل ملے گا اور بہار ضرور آئے گی۔اللہ یا تو ہماری دعا قبول کرتا ہے ہمیں ہماری مانگی ہوئی چیز نہیں ملتی بلکہ اس سے بہتر کچھ مل جاتا ہے۔ہماری بلا کو ٹال دیتا ہے تاہم دنیا کے مالک پر ہماری دعا کو قبول کرنے کی ذمہ داری نہیں ہے۔ مثال کے طور پر، اگر ایک میاں اپنی بیوی کے لیے بری زبان استعمال کرتا ہے، جو کہ اسلام کی تعلیمات کے خلاف ہے۔ جیساکہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے۔اللہ ان لوگوں پر رحم نہیں کرتا جو لوگوں پر رحم نہیں کرتےبہترین مومن وہ ہیں جو کردار میں اچھے ہیں، اور اچھے لوگ وہ ہیں جو اپنی بیویوں کے لیئے اچھے ہیں

حدیث وہ ہے جو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیان کی ہو، بخاری اور ترمذی سے

اللہ تعالیٰ کو کسی کے ساتھ زیادتی پسند نہیں ہے، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک واقعہ بیان کیا ہے , ایک اسرائیلی خاتون جو کہ پیاسی تھی اس نے کنویں سے پانی پیا، اپنی پیاس بجھانے کے بعد اس نے دیکھا کہ ایک کتا پیاسا ہے تو اس نے اپنے جوتے سے اسکو پانی پلایا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بتایا کہ اس کام کے لیئے اسکو دو جہانوں کے مالک نے جنت عطا کی۔

اسلیئے جب کوئی آدمی گناہ کرتا ہے، چوری کرتا ہے اور دوسروں کو نقصان پہنچاتا ہے تو اسکی دعا قبول نہیں ہوتی۔

اپنی دعا کو مضبوط بنائیں:

ہم اپنی دعا کو مضبوط بنا سکتے ہیں کسی اس چیز کو ظاہر کر کے جو اللہ کو بہت پیاری ہے۔ مثال کے طور پر دنیا میں ہم اپنے کسی دوست سے اس طرح مدد مانگ سکتے ہیں کہ ” تمہیں یاد ہے، میں نے بھی تمھاری مدد کی تھی” میں تمھارا بھائی اور دوست ہوں۔

اللہ کے ساتھ بھی یہی معاملہ ہے، اسکو عربی میں تواسل کہتے ہیں۔

اسلام میں تین طرح کے تواسل قبول ہوتے ہیں ) یہ اسلامی فقہ کا بہت گہرا مسئلہ ہے (

۱۔ اللہ سے اسکے ناموں اور صفات سے مانگنا

تو ہم یا اللہ ) اے میرے رب (یا رحمان)او رحم کرنے والے( یا حکیم ) حکمت والے (اور پھر دعا مانگیئے۔ یہ روزانہ کی مثال بھی ہے کہ جب ہم کسی کو اس کے نام اور کردار سے بلاتے ہیں تو وہ ہمیں زیادہ بہتر جواب ملتا ہے۔ مثال کے طور پر” عزیز راہنما ، ہماری مدد کیجیئے” کے بجائے ہم کہہ سکتے ہیں کہ ” عزیز راہنما، آپ ہی ہمیں بچانے والے ہیں ، ہماری مدد کیجیئے ”

 

cherryblossomstidalbasin1

۲۔ اس سے کہہ سکتے ہیں جو ہم سے زیادہ مذہبی ہو۔

ہم دعا کے لیئے اس مسلمان کے پاس جا سکتے ہیں جو ہم سے زیادہ اللہ کے قریب ہو۔ مثال کے طور پر جب کوئی کمزور مسلمان ہو اور اس نے کچھ اسیے کام کیئے ہیں جو اللہ کو پسند نہیں وہ کسی اور سے کہہ سکتا ہے مدد کے لیئے۔ ہماری روز مرہ کی زندگی میں ہم دیکھتے ہیں کہ وہ بندہ جس کے پاس طاقت ہے اپنے قریبی کی بات زیادہ غور سے سنتا ہے۔

۳۔ اپنے اچھے کاموں کی یاد دہانی کروائیں۔

ہماری دعا کے اندر ہم کہہ سکتے ہیں کہ ”یا اللہ میں روزانہ دعا مانگتا ہوں، میری دعا قبول کیجیئے”۔ یا پھر” میں رمضان میں پورے رکھتا ہوں، میری فریاد پر نظر ڈالیئے ” آپ جو بھی کر رہے ہیں نماز پڑھ رہے ہیں، روزہ رکھ رہے ہیں یا کسی کو دیکھ کر مسکرا رہے ہیں ) جی ہاں اسلام میں مسکرانا بھی عبادت ہے ( سڑکے کنارے کسی بڑھیا کی مدد کرنا یا کچھ بھی۔ اپنے اچھے کاموں کی یقین دہانی ہماری دعا کو مضبوط کردیتی ہے، جیسا کہ ہماری روزمرہ کی زندگی میں ہوتا ہے۔

قرآن کی پڑھائی:

انسانی تاریخ مین قرآن سب سے بہترین کتاب ہے۔ایسی کوئی کتاب نہین جس مین اتنی زیادہ راہنمائی موجود ہو۔ کوئی اور کتاب لوگوں کو اتنے دلوں سے یاد نہیں جتنی یہ یاد ہے۔ تمام تر اختلافات کے باوجود، یہ کتاب ۱۴۰۰ سالوں سے اسی حالت میں موجود ہے اور اسکا ایک حرف بھی تبدیل نہیں کیا جاسکتا۔ انڈونیشیا سے ماروکو تک قرآن ایک ہی ہے۔ سالوں سے بھٹکتے لوگوں کو ایک آدمی نے جنگل سے نکلنے کا راستہ دکھایا کیونکہ اسکے پاس نقشہ تھا اور وہ نقشہ قرآن ہے۔ دعا قرآن پڑھنے سے زیادہ مضبوط کی جاسکتی ہے۔ دعا کے علاوہ بھی قرآن کو روز پڑھنا چاہیے، اسکی تلاوت کرنی چاہیے۔ قرآن صرف عربی میں موجود ہے۔ بہت کم لوگوں نے اسکو مختلف زبانوں میں کرنے کی کوشش کی ہے۔ قرآن پڑھنے کے بعد، آپ دعا مانگ سکتے ہیں اور ایک بندہ دوسرے کو قرآن تواسل سے پڑھا سکتا ہے۔ قرآن کا اصل مطلب بہت کم لوگوں کو پتا ہے۔ یہ صرف پڑھنے اور عمل کرنے کی کتاب نہیں ہے بلکہ ایک دوا ہے ، ایک پرفیوم ہے جس سے بھینی بھینی خوشبوآتی ہے۔ ایک گھر میں قرآن کی تلاوت اسکی بحالی کا باعث بنتی ہے۔ ایک گھر جہاں پہلے لڑائی اور جھگڑا تھا قرآن کی خوشبو وہاں خوشی اور سکون لے کے آتی ہے، اگر اسکو روزانہ پڑھا جائے۔

 

tulip21

قرآن کی تلاوت گھر میں سکون لے کرآتی ہے، جیسا اللہ کے پیامبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے۔ جب انہوں نے ہمیں بتایا کہ قرآن کے دوسرے باب کو پڑھنے سے جو کہ البقراہ ہے شیطان تین دن تک گھر میں داخل نہیں ہوتا۔

ابپے گھروں کو قبروں میں تبدیل نہیں کرو۔ شیطان کو اس گھر میں داخل ہونے سے روکا جاتا ہے جہاں البقراہ کی تلاوت کی جاتی ہے۔

صحیح مسلم

تو جیسے ہم گھر میں پھولوں اور خوشبووں کا اہتمام کرتے ہیں خوشبو لانے کے لیئے، قرآن کی تلاوت کرنے سے گھر سے گناہوں کی بدبو ختم ہوجاتی ہے اور اچھی خوشبو پھیل جاتی ہے۔ ہر گناہ گندہ اور ناپاک ہوتا ہے۔ ایک بچہ جو والدین کی عزت نہیں کرتا، ایک شوہر جو بیوی سے اچھا سلوک نہیں کرتا۔ مستقل لڑائیاں اور جھگڑے گھر میں گندگی کا سبب بنتے ہیں۔ انکو مٹانے اور صاف کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ اللہ کی طرف رجوع کیا جائے اور باقاعدگی سے قرآن پڑھا جائے، خاص طور پر سورۃ البقراہ ) جو کہ قرآن کی دوسری سورۃ ہے (

قرآن ایک خزانے کی طرح ہے جس میں بہت سارے زیور ہیں۔ انگریزی کی ایک کہاوت ہے” ہیرے عورت کے بہترین دوست ہیں” قرآن ہیروں سے بھرا ہوا ہے اور ان تمام زیورات سے کہیں بہتر ہے۔ یہ انکا بہترین دوست بن سکتا ہے جو اسکو ضرورت کے وقت پڑھتے ہیں۔ جیسے ہر قیمتی پتھر کی اپنی خاصیت ہوتی ہے بلکل اسی طرح قرآن کی ہر سورۃ کی اپنی خاصیت ہے۔

mc-oval-stoneset-ring

فاتحہ:

یہ قرآن کی سب سے پہلی سورۃ ہے، اگر صحیح طرح تلاوت کی جائے تو یہ ہر مشکل کا حل ہے۔

میں نے خود اپنی مشکل میں اسکو پڑھا تھا اور جلد ہی مجھے اپنی مشکل کا حل مل گیا۔

یوسف:

قرآن کی بارویں سورۃ ہے۔ جو کہ حضرت یوسف کی زندگی کے بارے میں ہے ) جوزف، ان پر سلامتی ہو(

ان کے امتحانات کے متعلق ہے، یہ پڑھنے والے کو خوشی دیتی ہے۔ یہ غم کے سال میں نازل ہوئی تھی ، جب حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی بیوی اور چچا دونوں کا انتقال ہوگیا تھا۔ میں نے اسکو اسی قسم کی مشکلات میں پڑھا تھا اور دو، تین میں مجھے بہتر محسوس ہوا۔

یسین:

یہ قرآن کی ۳۶ سورۃ ہے اور تب پڑھی جاتی ہے جب آپ پر کوئی انہونی مصیبت آن پڑے۔میں نے اس سورۃ کو پڑھا ہے یا تو میری مشکلات مکمل طور پر حل ہوگئی یا پھر ان میں کمی واقع ہوئی۔

واقعہ:

قرآن کی ۵۶ سورۃ جس کے بارے میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا

” جو اس سورۃ کو رات میں باقاعدگی سے پڑھے گا، کبھی غربت نہیں دیکھے گا”)بے حقی(

میرا ایک کنٹریکٹ ختم ہونے کے بعد میں نے اسے پڑھا اور کچھ گھنٹے بعد ہی مجھے کام کے لیئے کال موصول ہوئی۔

آیت الکرسی:

قرآن ایک عظیم کتاب ہے اور آیت الکرسی  )  آیت= ورس ، کرسی= تخت( پورے قرآن میں سب سے عظیم آیت ہے اور اس میں بہت طاقت ہے۔

اللَّهُ لاَ إِلَهَ إِلاَّ هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ لاَ تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلاَ نَوْمٌ لَهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الأَرْضِ مَنْ ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِنْدَهُ إِلاَّ بِإِذْنِهِ يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ وَلاَ يُحِيطُونَ بِشَيْءٍ مِنْ عِلْمِهِ إِلاَّ بِمَا شَاءَ وَسِعَ كُرْسِيُّهُ السَّمَاواتِ وَالأَرْضَ وَلاَ يَئُودُهُ حِفْظُهُمَا وَهُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ

ترجمہ:

اللہ کے سوا کوئی اور معبود نہیں ہے

وہ آپ زندہ اور اوروں کو قائم رکھنے والا ہے

اس نہ نیند آتی ہے نہ اونگھ

اسی کا ہے جو کچھ آسمان میں ہے اور زمین میں

وہ کون ہے جو اسکے یہاں سفارش کرے بغیر اسکے حکم کے

جو کچھ ان کے آگے اور پیچھے ہے وہ سب جانتا ہے

اور وہ نہیں پاتے اسکے علم میں سے کچھ، مگر جتنا وہ چاہے

اسکی کرسی میں سمائے ہیں آسمان اور زمین

اور اسے بھاری نہیں انکی نگہبانی

اور وہی ہے بلند بڑائی والا

میں نے یہ آیت ضرورت کے وقت پڑھی ہے اور اللہ نے میری مدد کی ہے جس کے لیئے میں اللہ کا شکرگزار ہوں۔

سورۃ یسین:

Waja’alnaa mim bayni aydeehim saddan wamin khalfihim saddan faaghshaynaahum fahum laa yubsiroon

ہم نے ایک دیوار انکے آگے اور ایک پیچھے بنا دی ہے تاکہ وہ دیکھ نہ سکیں۔

 یہ آیت پڑھیں اور اپنے ہاتھوں پر پھونک ماریں اور منہ پر پھیر لیں۔ یہ حجاب یا ڈراھی والے مسلمانوں کی مدد کرتی ہے تعصب سے لڑنے میں۔

طحٰہ:

یہ قرآن کی ۲۰ سورۃ ہے۔ یہ شادی میں مدد کے لیئے استعمال ہوتی ہے۔ اگر کسی کی شادی نہیں ہورہی تو اسے پڑھیں یا پھر کسی خاندان کے دوسرے فرد کے لیئے بھی پڑھی جا سکتی ہے۔

دعا تمام مذاہب میں مانگی جاتی ہے یہ انسانی ثقافتوں کو ختم کرتی ہے اور ہمارے اندر کمزوری کا احساس جگاتی ہے، کہ خدا سے زیادہ کوئی مددگار نہیں ہے۔ ہم پوری زندگی اللہ سے کسی نہ کسی چیز کے لیئے سوال کرتے رہتے ہیں جو کہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اگر ہم کسی دوست سے مستقل مدد مانگیں تو وہ تنگ آجاتا ہے یا پھر اپنی دوسری چیزوں میں مصروف ہوجاتا ہے۔ تاہم اللہ کے ساتھ دوسرا معاملہ ہے جب بھی ہم دعا کرتے ہیں تو یہ عبادت میں گنا جاتا ہے۔ دعا کو حضور اکرم صلی اللہ ہو علیہ وآلہ وسلم نے ماننے والے کا ہتھیار قرار دیا ہے۔ اس کو استعمال کرکہ آپ اپنی مشکلات پر قابو پاسکتے ہیں۔ بہت سے مسلمان نہ تو دعا مانگتے ہیں نہ ہی قرآن پڑھنا چاہتے ہیں۔ پرانے زمانے کے پرہیزگار افراد روزانہ ۲۰ صفحات پڑھتے تھے۔ ہم میں سے بہت سے لوگ ، جو نئے ہیں اور عربی پڑھنا نہیں جانتے۔ تاہم آپ روز دو آیات پڑھ سکتے ہیں تقریبا ایک سال تک۔ قرآن کی روزانہ تلاوت سے ہماری دعا کی قبولیت میں بہتری آتی ہے۔اس سے صرف ہماری ذات میں نہیں بلکہ پورے مسلم معاشرے میں تبدیلی آئے گی۔

Advertisements

The Quran commentary series: 2b

 

In the previous article, which you can read by clicking here, we started discussing the ‘basmallah’ which means uttering ‘Bismillahi Rahman ar-Raheem’ meaning ‘In the name of my Allah the most beneficient, the most merficul’. We covered the words ‘bi’ (by/with/in) and ‘ism’ (name) now in this article I will focus on the word ‘Allah’.

 

Every thing has a name, for without a name, how can we speak of it or if ‘it’ be a person how can we speak to him or her?

A name identifies, describes.

Names are important, for without names there is nothing but chaos and confusion. They are a fundamental basis for humans to function. ‘Oh Adam, pass me the …..{no name/unspecified thing}’, or ‘Oh Adam, our daughter {no name} needs milk.’, ‘Oh Sara, which daughter?’

So names are essential for our existence.

What is the name of the most important being in existence, the most important one in our lives, the one who created us, to whom we owe our very existence and being? What is the name of the one to whom we owe everything, our lives, our health, our family?

His name is ‘Allah’

Image result for name allah

Root/etymology

Some, especially amongst the non-Muslims, believe that ‘Allah’ is a compound consisting of ‘Al’ (Arabic for ‘the’) and ‘ilah’ (Arabic for god or deity). In contrast to the many other deities worshipped by the ancient Arabs of the past, that ‘Al-ilah’, which is pronounced ‘Allah’, (the two words being merged).

The Muslims state that the name ‘Allah’ is the proper name for God.

The word ‘Allah’ existed before Islam and was used by the Jewish and Christian Arabs and is still today. The name of the father of the prophet Muhammad MHMD was ‘Abdullah’ (slave of Allah)

Arabic is a sister language of other Semitic languages such as Hebrew and Aramaic. The word which the ancient Hebews used as the personal name for God was ‘Yahweh’, but they also used the words ‘El’ or ‘Elohim’ which contain the ‘vowel’ + ‘L’ sound that we see in ‘Allah’. The word for God in Aramaic is either ‘El’ or ‘Elaha’ or ‘Elahi’.

The closest languages to Arabic include Hebrew and Aramaic.

The Jewish Arabs, Christian Arabs, monotheistic Arabs, polytheistic Arabs during the time before the holy prophet Muhammad all called ‘God’ as ‘Allah’. There was no dispute over this.

Despite there being disputes as to how only ‘Allah’ should be worshipped and certain acts constituted ‘shirk’ (idolatry or making partners with God) between the early Muslim Arabs and polytheist Arabs. Despite there being differences between the early Muslims and Christians on the nature of the Trinity or the allegation that Jesus (peace be upon him) was the ‘son’ of Allah. Despite there being certain monotheist Arabs (‘Hunafa’ in the Islamic tradition) they did not use a name other than ‘Allah’ for the supreme creator. It is the word for God in Arabic, as the word ‘God’ in English is used by Muslims, Christians, Jews, atheists and others.

Sound

It has three main sounds.

 

‘A’.

The first vowel ‘A’ or ‘A’ preceded’ by a ‘hamzah’

Image result for hamza letter

A hamzah.

Related image

Before we recite the Alif, we have to say the Hamza. The Hamza is from the lower part of the throat and you should be able to feel the bottom of your chest being worked.  Alif in Arabic is produced by moving the mouth open slightly wide and down (American English pronunciation is flawed because they open their mouth execessively wide and should instead focus on also dropping the jaw slightly as in the sound ‘Uh-huh’) and exhaling air and then quickly saying the second sound.

‘L’

Related image

The second sound is the ‘L’ sound which linguists classify as a ‘lateral’. You should press the tongue to slightly behind your upper teeth and hold it.

The ‘L’ or ‘Lam’ sound is not momentary but uttered when raising the tongue to the upper part of the mouth immediately behind the teeth and  then maintained when lowering the tongue.

 

‘HA’

Image result for HA arabic

The final sound is the soft ‘HA’.

As the tongue is lowered from the top of the mouth it continues to 1: Make an ‘L’ sound to get the double ‘L’ in ‘Allah’ then makes an ‘A’ sound and then a final very soft ‘H’ sound which is not followed by any vowel.

To get the correct pronunciation find a Muslim or Arab who has learnt how to say the name of ‘Allah’ properly, and failing that you can find videos online or an online teacher or language exchange partner.

Many south Asian Muslims make mistakes when uttering the name ‘Allah’ by overemphasizing the ‘LL’ and not adding the very soft and subtle ‘H’ sound at the end.

This is the most important word in the universe and great care should be taken to learn how to pronounce it properly.

 

VIRTUES

The name of ‘Allah’ is the most powerful word and name in the entire universe, in the seven heavens and earths. It is a divine name whose utterance causes divine blessings to be endowed upon the one say it. It is encouraged to say it in abunance. Many of the great ‘awliyah’ (saints) of the past have said this holy and divine name tens of thousands, if not more every day.

The name of ‘Allah’ is often said in conjunction with other words such as ‘bismillah’ (in the name of Allah) or ‘A’udhubillah’ (I seek refuge in Allah), nevertheless it is constantly on the tongues of the pious, for it is He, the Most High, the Most Exalted for whom we exist, for whom we live and why we have been placed on this earth, to love him, to revere him, to thank him, to praise him and to earn his love by following commands and loving others including his beloved and holy messenger, Muhammad MHMD, who has been described as ‘rahmatul lil ‘aalameen’ (a mercy to the worlds).

The more frequently the name of ‘Allah’, the more blessings there are upon the one saying it.

 

From Abu Sa`id al-Khudri, the Prophet MHMD said, upon him peace:

“No people mention ALLAH but the angels surround them, mercy covers them, tranquility descends on them, and ALLAH mentions them to those who are with Him.” (Muslim, at-Tirmidhi)

Modern life can be stressful, here in London it is said that officially (let alone unofficially) one in four of Londoners have what is medically classified as ‘depression’. Those who are heedless of their creator, the Most Generous, will not receive the same amount of generosity as the ones who constantly remember him, call upon him, and praise him.

When you say ‘bismillah’, you are saying that you are performing an act in the name of the Master of the Heavens and the Earth, the One who can do all things, the One who has power over all things. You are saying that you are performing an act in the name of the One who created you, the One to whom you will be held to account on the day of judgement, that day of reckoning when men will have to answer for their deeds during their very short stay in his temporary, transient, and harsh residence called the earth.

Oh son of Adam, oh Muslim, engage in frequent invocation of Allah, in frequent utterance of his name and upon doing so you will witness much blessings flowing in to your life. Be grateful to the One who has given you countless blessings including that you are aware of and that you are not.

  • Faatih

 

*In the next article in the Quran commentary series we will complete our focus on the ‘basmallah’ by looking at the words ‘Rahman and ‘Raheem’

Instructions in the Quran

You cannot force people to change…

The Quran commentary series: 2a

This is the second in my series of commentaries on the holy Quran, to read the first article, please click on this link.

 

In the previous and first ever article in my Quran commentary series, we discussed the ‘isti’aadah’.

  1. It is the words ‘A’udhubillahi min as shaytan ar rajeem’ in Arabic or ‘I seek refuge in Allah from the rejected Satan’.
  2. We said that it should be recited before reading the Quran and looked at the Quranic verse which tells us to do so.
  3. It does not form an actual part of the Quranic text.
  4. It denotes the three-sided relationship of man, God and the devil, and the nature of life whereby God encourages man to good and thus his salvation, whereas the devil incites man to evil. Man has to choose between these two ways.

In this article I will be looking at the ‘Basmallah’.

In Islam Muslims are supposed to recite ‘Bismillahi rahman ar raheem’, in the name of God the most beneficient, the most merciful’ before any action including eating, prayer, or any major piece of work.

I will first carry out a look at each of the individual words.

1.”Bi”

ب

‘Bi’ is an Arabic word meaning ‘with’.

It is usually followed by a verb:

 

“That is to the say the preposition ‘bi’ in ‘bi-ism-illah’ requires a verb to introduce it, but there is no explicit verb within it, so it is the hearer’s knowledge of the intention of the person who says ‘bi-ism-illah’ which enables him to do without the speaker having to announce explicitly what he intends'”

(From Tafseer At-Tabari, section on the ‘basmallah)

As ‘bi’ is a preposition, it is known in Arabic grammar as a ‘harf’ (preposition or particle).

In Arabic words are classified in to three categories.

  1. Ism (name)
  2. Fi’il (verb)
  3. Harf (preposition or particle).

These are of course then sub-divided in to sub-categories.

The word ‘bi’ is the second word ever revealed to the holy prophet, the second word ever revealed in the Quran.

The first was ‘Iqra’ which Jibreel said to the prophet in the cave of Hira. Then that was followed by ‘bismi rabbika’ [in the name of your lord’

2. “Ism”

اسم

“Ism” in Arabic means name and as its meaning suggests it is of course classified as an ‘ism’ or noun.

Names are very powerful.

What is a name?

A name is used to identify someone or something and thus by definition distinguish that person or thing from others.

The name given to a child for instance can determine many things about his or her life. For example how high or low he is on the class list/register and thus at times if he gets things first or later.

Allah ta’ala (ta’ala = the most high) taught Adam the ‘”names”. According to the tafseer (Quranic exegisis/commentary) of the Damascene writer, Ibn Katheer, the names which Allah ta’ala taught Adam included knowledge of all things including objects:

“Allah taught Adam the names of everything, their proper names, the names of their characteristics, and what they do, just as Ibn `Abbas stated about the terms for passing gas.”

(Ibn Katheer).

There are various branches of science be it physics and biology where materials or life forms are identified and placed in to categories or sub-categories and their different characteristics and properties are identified. Thus we know copper can conduct electricity and therefore we use it in wires and this knowledge has helped us to create the modern world. Knowledge and correct identification of things is a prerequisite for progress.

In Islam it is said that when you name a child that you should be careful and try to name them with a good name and certain names have more virtue than other names.

In the following article I will talk about the name ‘Allah’ and the other names of Allah. This is a topic which requires an article on its own right and will thus be discussed separately.

However we read in the work of the Andalusian writer and commentator (exegete or ‘musafir’ in Arabic) the following in relation to the ‘basmallah’

 

‘The shari’ah recommends the basmallah at the beginning of every action, like eating, drinking, slaughtering, sex, purification, embarking on a ship and the like. Allah says ‘Eat that over which the name of Allah has been mentioned’ (Quran, 6:118) and ‘He said Embark in it. In the name of Allah be its voyage and its landing!” (Quran, 11.41) The prophet صلی اللہ علیہ وسلم said ‘ Lock your door and mention the name of Allah’ Put out your lamp and mention the name of Allah. Cover your vessels and mention the name of Allah. Tie up your waterskins and mention the name of Allah.” He said if anyone of you wants to go to his wife, he should say “In the name of Allah, Oh Allah keep the Shaytan (Satan) away from us and keep Shaytan away from what you provide us with. If a child is decreed for them, Shaytan will not harm  him at all.”

(Qurtubi, section on the basmallah)

The ‘basmallah’ along with the ‘isti’aadah’ help protect us from the evil of Shaytan (Iblis), who is engaged in a never-ending war to destroy us and cause our ruin, to cause us harm, suffering and tears.

The name of Allah sanctifies and gives blessings and benediction (barakah) on any action in whose name it is performed. The name of Allah is holy and has great spiritual powers. We should always remember Allah, praise Allah and invoke his name.

  • Faatih

Introduction: Commentary on verses of the Quran series.

Image result for bismillah

I am planning to write a series of posts on the verses of the Quran. It will start from the very beginning and progress onwards. If Allah grants me success I may cover all the over 6,000 verses of the holy Quran.

 

 

How exalted is the creed of theism. For it elevates  that relatively insignificant and physically miniscule creature known as man to one so high that he is in direct communication with the Creator of the heavens and the earth of the one whom has created all that we can see, touch and imagine and that which beyond, which our minds cannot ever imagine or may have never ever concieved of. Man, that creature who pales in to insignificance in comparison to the mountains which are far bigger than him, that weak creature who spends but a brief time on this plane, in this world only to have an ending in which he enters the permanent stage of sickness called old age and then dies most often to tears. For theism says that the street cleaner, the beggar, the orphan are people whom have the ability to address the One who is higher and greater than the most powerful king, emperor, president, Sultan. For theism says he is a noble creature, much more than a mere combination of flesh, bones, nerves and other parts.

 

 

 

Old age, an inevitable part of human life after which we die.

 

 

So the theist, the believer in the existence of God, affirms that there is a God, a creator, but the religion of Al-Islam goes further and states that God has not merely created mankind and remained silent and left man in darkness as to the reality of his existence, as to why he was created, the beginning of humanity and the final end for humanity and how a person should live their lives. Islam says that God, Allah, has sent messengers to communicate his will to mankind, some of whom bought with them divinely revealed books such as the ‘Suhuf’ (scrolls) of Ibrahim (Abraham), Torah of Musa (Moses), Zaboor (psalms) of Dawud (David) and Injeel (gospel) of the son of the virgin Mary, the Messiah Isa bin Maryam (Jesus the son of Mary).

The last of these messengers came with the final, complete and ultimate book of revelation which is the holy Quran.

The Quran is in Arabic, a Semitic tongue related to the Semitic languages of the other peoples of the middle east, a sister language, such as Hebrew and Aramaic, the language which it is said that the Messiah, Jesus the son of Mary spoke in.

It addresses the fundamental questions of creation, reality, existence and the purpose of life and the ultimate end for mankind. It does not speak in detail about the life of the holy prophet Muhammad صلی اللہ علیہ وسلم, it does not speak in much detail about the ancient Arabs, or about mundane things. Rather it has the qualities, the characteristics befitting of a book which is said to be the most important book in existence and a divine revelation to mankind.

  • The original man, Adam.
  • His downfall.
  • Man’s enemy, Iblis (satan).
  • The purpose of man’s existence in this world, to worship God.
  • How he should worship God.
  • Moral teachings including kindness to others, honesty, charity.
  • What will happen after a man’s death.
  • The ultimate ending for humanity, the day of judgement.
  • Heaven and hell.

It is in Arabic but now in the modern era translations of it are plenty and can be found in languages as diverse as Norwegian, the language of the Norse man of the far north of the world to Zulu in the south of Africa. The pale-skinned Norse man and brown-skinned Zulu both being sons of Adam and brothers in the brotherhood of man.

A blonde boy from Norway in the far north of the world.

 

A Zulu boy from the far south of Africa.

 

A message to humanity.

From the white to the black, from the Norse man in Scandinavia to the Zulu tribesmen of far southern Africa and all the diverse peoples in between, to peoples from the north to the west….

From the rich to the poor, to the high to the low, to the ones revered and respected to the ones reviled and ridiculed, from the old to the young, it is the holy Quran, the book which Muslims claim is the final message of God to humanity, addressed to all humanity about them, their world, their father Adam, their lord and creator Allah and why they are here.

It was revealed to the holy prophet Muhammad صلی اللہ علیہ وسلم over a 23 year period, first in his native city of Mecca from where he was forced to flee after he was about to be killed after years of persecution, and then later in Medina where he established his government.

It contains 114 chapters (surahs).

For Muslims not only is it a book of guidance but it is also a book which by its mere recitation brings benediction and blessings including being able to ward off affliction, cure the sick, ensure that man or woman can get married, for it is a book which contains a myriad of divine blessings and succour to mankind including to the weak and the oppressed.

In this series of articles commenting on the holy Quran I will draw upon several of the major exegetes, commentators, of the Quran including:

  • Tabari
  • Ibn Katheer
  • Qurtubi

who were from Iran, Syria and Spain respectively.

Thank you for reading and may Allah bestow peace, blessings, happiness, joy, wealth – material, spiritual and emotional – upon you.

Until next time or as ‘Ilaa al liqaa’ as the Arabs say.

Peace – Salaam.

 

  • Faatih

Prophet Muhammad صلی اللہ علیہ وسلم becomes orphan at age of six.

The Quran, God’s final message to humanity on the reality of existence, purpose of creation and on how to live and interact with each other, is replete with references to orphans including exhortation to the believers to be merciful and benevolent to orphans, these poor individuals who sadly are without a mother or father. Such people are often at the very lowest rung of the ladder in society, because a person who has parents or at least one parent has someone who is a supporter, who emotionally, physically, financially supports them.

Here are two Quranic verses regarding orphans.

 

“And remember We took a covenant from the Children of Israel (to this effect): Worship none but Allah.treat with kindness your parents and kindred, and orphans and those in need; speak fair to the people; be steadfast in prayer; and practise regular charity.Then did ye turn back, except a few among you, and ye backslide (even now). “ (Surah Al-Baqara, 83)

 

Serve Allah, and join not any partners with Him; and do good- to parents, kinsfolk, orphans, those in need, neighbours who are near, neighbours who are strangers, the companion by your side, the wayfarer (ye meet), and what your right hands possess: For Allah loveth not the arrogant, the vainglorious;- (Surah An-Nisa’, 36)

 

It is clear from this that God Himself has bestowed a very high status on orphans in the priority that they should be accorded in receiving help from the believers and from society.

Motherless…

 

Fatherless…

 

Parentless…

 

Deprived, weak, unfortunate individuals.

Related image

Related image
Image result for orphans romania

Among the multiple verses which deal with the orphans is one particular verse from the celebrated and oft-recited surah of the holy Quran, Surah Duha.

 

Did He not find thee an orphan and give thee shelter (and care)? (Surah Ad-Duha, 6)

Allah is addressing the holy prophet صلی اللہ علیہ وسلم and reminding him that despite the difficulties he faced that God had found him as an orphan and yet provided for him.

It is said that the best of creation, the final prophet, the trustworthy one (Sadiqul Ameen) became an orphan at the tender age of six. He it is said had never seen his father, Abdullah, and the little he did see of his mother, Amina, was only for the first six years of his life.

Image result for child tears
Children often cry.

But let us imagine that day when the holy prophet’s صلی اللہ علیہ وسلم mother passed away.

How much did he cry?

How many tears did this poor orphan at the age of six cry?

We, and that is most of us, saw our parents and grew up with them or at least saw them whilst growing up. However it was not so for the holy prophet صلی اللہ علیہ وسلم.

The day that the prophet’s صلی اللہ علیہ وسلم mother died, what memories did he have of her? What memories did he صلی اللہ علیہ وسلم of her whilst he grew up and later on in life? How was he affected emotionally and psychologically? Did memories of his mother’s death go through his mind when later on in life his son, Ibrahim, is said to have died at the tender age of 16 months?

Did the prophet صلی اللہ علیہ وسلم have memories of playing with his mother? Of how she fed him, looked after him, cleaned him?

Let us try to think of how the beloved of Allah, the holy prophet صلی اللہ علیہ وسلم was affected.

Image result for amina bint wahab

A place said to be the grave of the mother of the holy prophet صلی اللہ علیہ وسلم, Aminah bint Wahab.

Muslims are encouraged to make regular ‘salam’ (prayers) upon the holy prophet صلی اللہ علیہ وسلم

Indeed, Allah  and his angels confers blessing upon the Prophet, O you who believe, ask blessings upon him and ask for peace on him. (Surah Al-Ahzab, 56)

So Muslims should be prolific in their ‘salaam’ (durood in certain languages) upon the prophet and it should be in the hundreds each day.

When reciting salaam on the prophet oh Muslims, remember this very critical period in the life of the holy prophet صلی اللہ علیہ وسلم.

Imagine what it must have been like for the young Muhammad ibn Abdullah (name of the prophet صلی اللہ علیہ وسلم). What was his emotional state? Fatherless and on that day now motherless?

Did he not miss his mother who he would not see again?

How many tears did he shed?

What fears did he have for his future?

Oh Muslims who have been commanded by Allah to love his beloved, the best of creation, prophet Muhammad صلی اللہ علیہ وسلم, I urge you to remember this moment every day for the rest of your life. Allah recommended you to send prayers upon the prophet, thus remember his life, remember his sacrifices, have respect for him.

All praise be to Allah and peace be upon his final messenger, Muhammad صلی اللہ علیہ وسلم and his noble wives, family, companions, his ummah (nation) and all the prophets and their ummat (nations).

– Faatih

 

Article in Arabic / المدونة باللغة العربية

Article in Urdu / اردو میں مضامین


July 2018
M T W T F S S
« Jun    
 1
2345678
9101112131415
16171819202122
23242526272829
3031  

Enter your email address to follow this blog and receive notifications of new posts by email.

Join 88 other followers

Blog Stats

  • 173,039 hits
Advertisements

%d bloggers like this: